Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD650.00 USD677.00

Pay in 4 interest-free payments of $162.50 Learn more

Aawaz Khazana (Vol. 1) - آواز خزانہ جلد اول Spring Torrents football players

SKU: 80975101643
4.1

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 9 - Aug 14

Description

football players

جب علی اکبر ناطق نے فون پر مجھ سے کہا تھا، ’’اس کو جلدی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘‘ تب میں خوب ہنسی تھی۔ لیکن ہوا تو یہی، ایک دفعہ کتاب شروع کی تو اس ابتدائی مشکل کے ختم ہونے کے بعد میں نے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو آخری صفحے تک پڑھتی ہی چلی گئی۔ یہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھا قصہ تھا جس کی سچائی نے ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے مجھ کو اُداس اور سنجیدہ چھوڑا۔ علی اکبر کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ جب آپ اس علاقے کو اپنے ندی نالوں، پیڑ پودوں، پھلوں، پھولوں، جانوروں، مکانوں اور حویلیوں، برتن بھانڈوں، سبزی ترکاریوں اور فصلوں، غلوں اور دالوں، آبادی کے مختلف حصوں، اس کے سماج کی تہہ داریوں، اس کے طبقاتی پیچ و خم اور جوڑنے والی ڈوریوں، افراد اور ان کے عمل سے نکلتا دیکھتے ہیں۔ جبکہ اس پر رومانیت کی چھوٹ بھی نہ پڑی ہو۔ یہ تحریر سوشل ریئلزم یعنی حقیقت نگاری کا ایک ایسا نادر و نایاب نمونہ ہے جسے ادب میں حالیہ مقبول اور کارآمد ٹیکنیک میجک ریئلزم کی ضرورت نہیں پڑی۔ حقیقت خود میجک میں تبدیل ہو گئی ہے جس سے بڑے بڑے سینئر ادیب سبق لے سکتے ہیں۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ کے بیانیے کی زبان ایک خاص انداز کی ہے جو متن کے اندر سے خود بخود پھوٹتی معلوم ہوتی ہے۔ پنجابی الفاظ اور پنجابی دیہی طریقہ اظہار سے مملو، روں دواں اور انٹیمیٹ۔ لیکن انگریز کرداروں کی عکاسی میں اور ان کی بات چیت دوہرانے میں یہ زبان اور طریقہ اظہار ناکام رہتا ہے اور غیرحقیقی لگنے لگتا ہے۔ یہ اس ناول کی واحد کمزوری ہے کہ انگریز کردار انگریز نہیں لگتے۔ میرا خیال ہے کہ کتاب کے انگریزی ترجمے میں یہ خامی تو خود بخود غائب ہو جائے گی۔ تو مبارک باد علی اکبر ناطق کو۔ جو ایک شاندار ادیب ہے۔ قابلِ احترام، قابلِ محبت اور قابلِ رشک

میں نے جب سے ہوش سنبھالا،ستلج کو ایسا ہی دیکھا۔ کسی ودھوا کی سیندور سے عاری اجڑی مانگ سا۔ کسی حق بخشوائی گئی ان چھوئی عورت کے دل کی طرح ویران جھلستا کلستا زندگی کے لمس سے قطعی نا آشنا۔ دامن میں حد نگاہ تک پھیلی بوند بوند کو ترستی ریت سمیٹے۔ میں آج تک ستلج کی اس ویرانی کو سندھ طاس معاہدے کا شاخسانہ ہی سمجھتی آئی۔ جس نے اس بدقسمت دریا کے حسن و شباب، سندرتا، کو ملتا کو خوب رگیدا اور اسے اس کے باکرہ پن سے محروم کر کے ’’انواسی ستلج‘‘ بنا دیا۔لیکن بھلا ہو حفیظ خان کا،جنھوں نے ’’اَنواسی‘‘ جیسا باکمال ناول لکھ کر یہ گرہ کشائی کی۔ ’’اَنواسی‘‘ داستان ہےاسی ستلج کی ریتلی دبیز تہوں میں گم ہوئے نوآبادیاتی جبر اور استحصال کے مدفن کی کھدائی کی۔ انیسویں صدی کے آخری نصف کی جب انگریز اپنا ریلوے نظام لے کر برصغیر پہنچے اور کراچی سے لاہور تک ریلوے ٹریک بچھاتے ہوئے بہاول پور کے دریائے ستلج پر ایمپریس پُل بنانے کے لیے اس دریا کی باکرہ کوکھ چیر کر لوہے کے ستون گاڑنے اور برطانوی استعمار کے ہاتھوں مقامیت برباد ہونے کا آغاز ہوا۔ ناول کی مرکزی کردار سنگری اور دریائے ستلج، دونوں کے اَنواسی پن اور ویرانی کا آغاز بھی اسی وقت ہوا جب اس کے کنارے آباد مقامی آبادی کے قدیم قبرستان کو مسمار کر کے مدت مدید سے وہاں مدفون بزرگوں اور شہدا کی گل چکی ہڈیوں کو نکالا گیا۔ درویشوں نے اجتماعی گریہ زاری کی اور آسمان کی جانب شہادت کی انگلی اٹھا کر بددعا دی:

Pages: 530

dedication and courage in the face of adversity

Aawaz Khazana (Vol. 1) - آواز خزانہ جلد اول Spring Torrents football playersPages: 380 Category: Urdu Adab , Memories

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products